نئی دہلی ، 8 ؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نکسل متاثرہ 10 ریاستوں میں انٹیگریٹیڈ کمان کی تشکیل کی پہل کرتے ہوئے تمام ریاستوں کی طرف سے مشترکہ حکمت عملی بنا کر نکسلی مسئلہ سے نمٹنے کے لیے مستقل حل کا فارمولہ بتایا۔سنگھ نے آج یہاں نکسلی مسئلہ سے دوچار 10 ریاستوں کے وزرائے اعلی اور متعلقہ مرکزی ایجنسیوں کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے’ آٹھ نکاتی حل’ اصول کے تحت موثر قیادت، جارحانہ حکمت عملی، ترغیبات اورٹریننگ ، موثر خفیہ نظام، حکمت عملی کا معیار، کارگر ٹیکنالوجی، ہر حکمت عملی کا ایکشن پلان اور نکسلیوں کی مالی مد د کو ناکام کرنے کی حکمت عملی کو شامل کرنے کی ضرورت بتائی ۔سنگھ نے اس اصول کو عملی طورپر لاگو کرنے کے لیے مسئلہ سے دوچار ریاستوں کے درمیان انٹیگریٹیڈ کمان کے قیام کی پہل کی۔میٹنگ میں ریاستوں کے وزرائے اعلی، پولیس اور انتظامی سربراہ، نیم فوجی دستوں اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ اوروزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے اعلی افسر ان نکسل مخالف مشترکہ حکمت عملی کو لاگو کرنے کے لیے انٹیگریٹیڈ کمان کی تشکیل کے اقدامات کو عملی طورپر لاگو کرنے پر غوروخوض کیا ۔اس اجلاس میں مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے وزرائے اعلی شامل نہیں ہو ئے ۔اس دوران اتر پردیش کے وزیر یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں نکسل متاثرہ دو اضلاع، سون بھدر اور چندولی کو ٹیکنالوجی کی مدد سے نکسلی مسئلہ سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ضلع پڑوسی ریاستوں بہار اور مدھیہ پردیش سے ملحق ہیں ۔دونوں اضلاع میں نکسل سرگرمیوں پر نکیل کسنے کے لیے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مواصلات اور دیگر ذرائع سے معلومات کا تبادلہ کرکے باہمی تال میل قائم کیا جا رہا ہے،اس میں جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کو اہم ہتھیار بنایا جائے گا۔اس دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ واقعات سے سبق لیتے ہوئے نکسل مخالف مہمات کو لاگو کرنے میں ہر قدم پر جارحانہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل مسئلے سے نمٹنے کی حکمت عملی، حفاظتی دستوں کی تعیناتی اور سڑک کی تعمیر سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کو پورا کرنے میں جارحانہ ہونے کی ضرورت ہے۔